Skip to main content

لطائف اقبال/اردو لطیفے||اردو طنزو مزاح||Allama Muhammad Iqabal

لطائف اقباللطائف اقبال/اردو لطیفے||اردو طنزو مزاح||Allama Muhammad Iqabal
لطائف اقبال
علامہ اقبال۔۔۔۔۔ساقی نامہ


 مغرب کے اہل سیاست اقبال کی نظر میں

کیمرج کے زمانہ میں چند ہم عصروں سے مذہب پر بحث چھڑ گئی۔ایک صاحب پوچھنے لگے مسٹر اقبال یہ کیا بات ہے کہ جتنے پیغمبر اور بانیان مذہب دنیا میں آئے وہ بلا استثنا ایشیا میں مبعوث ہوئے۔یورپ میں ایک بھی نبی مبعوث نہیں ہوا؟

ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔بھئی شروع شروع میں اللہ میاں اور شیطان نے اپنا اپنا پیترا جما لیا۔اللہ میاں نے ایشیا کو پسند کیا اور شیطان نے یورپ کو۔۔۔اس لیے پیغمبر جو اللہ میاں کی طرف سے آئے ہیں ایشیا میں مبعوث ہوئے ۔وہ صاحب بول اٹھے تو پھر شیطان کے پیغمبر کیا ہوئے ۔انھوں نے جواب دیا:''یہ تمھارے میکائیولی اور مشہور اہل سیاست اس کے رسول ہیں ۔''

[اس پر خوب قہقہہ پڑا ]

دنیا میں جنت

دوسری گول میز کانفرنس کے زمانے میں انگلینڈ کی مشہور سیاح خاتون مس روزیتا فوریس نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات  کا شوق ظاہر کیا۔چناں چہ مس صاحبہ نے انھیں اپنے ہاں مدعو کیا۔یہ خاتون شمالی افریقہ اور  اسلامی ممالک میں بہت زیادہ پھری تھیں اور ان پراس سیاحت کا بہت اچھا اثر پڑا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے خیال میں ان کا محل جو لندن میں تھا وہ ایشیائی بلکہ اسلامی طرز آرائش کا نہایت لطیف اور شستہ نمونہ تھا۔سامان آرائش ،غالیچے ۔زیب وزینت کے اندازہر لحاظ سے معلوم ہوتاتھا کہ ہارون الرشید کے کسی محل کا خاکہ ہے۔اس محل میں ڈاکٹر صاحب کی ضیافت ہوئی اور پر لطف مجلس رہی لیکن انھیں خاتون کے محل کی تعریف کا موقع نہ ملا۔روانگی کے وقت خاتون سے رہا نہ گیا۔پوچھنے لگیں :''سر محمدمیرے اس مکان کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ''۔ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا :

''آپ نے اپنی بہشت دنیا میں پائی ہے میں اپنی بہشت کا منتظر ہوں "۔۔۔۔

حسن کا اثر

ڈاکٹر صاحب پر حسن کا گہرا اور فوری اثر ہوتا تھا۔روم کے چند روزہ قیام کے زمانے میں ان کی ایک دوست خاتون  جو اٹلی کے طبقہ امرا میں سے تھی ان سے دریافت کیا کہ  آپ کو اگر یہاں کی کوئی خاص چیز دیکھنی  ہے تو بتائیے تا کہ  اس کاانتظام کیا جائے ۔۔۔فرمایا کہ اطالیہ کا حسن مشہور ہے میں اس شہر روما کی حسین ترین  خواتین دیکھنا چاہتا ہوں ۔چناں چہ موصوفہ نے ایک ٹی پارٹی میں اعلا سوسائیٹی کی چند  حسین خواتین مدعو کیں۔جن سےڈاکٹر صاحب نے ملاقات کی  فرماتے تھے کہ اطالیہ کا حسن یورپ میں بہترین ہے اورا س ضیافت میں روما کے حسن کے بعض  نہایت لطیف نمونے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

کتاب ''اقبال کے چند جواہر ریزے'' از  پروفیسر خواجہ عبدالحمید سے ماخوز

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

حسن تعلیل||صنعت حسن تعلیل کی مثالیں||اردو کی اہم صنعتیں||urdu ki mashhoor sanatain

  حسن تعلیل اردو لیکچرر کے لیے معاون مواد پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں تعلیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے علت یا  وجہ بیان کرنا یا توجیح پیش کرنا ‘’حسن تعلیل شعری صنعت ہے جس میں شاعر کسی واقعے کی اصل منطقی ،جغرافیائی یا سائنسی  وجہ کو نظر انداز کر کے  تخیلاتی جذباتی اور عین شاعرانہ وجہ بیان کرتا ہے ‘’     مثال بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے کوئی   بے تاب تہ خاک   تڑپتا      ہو    گا زلزلے کی سائنسی وجہ تو زیر زمیں پلیٹس کے اندر تبدیلی یا ٹکراو کو سمجھا جاتا ہے لیکن  شاعر نے تخیلاتی سطح پہ اس کی شاعرانہ وجہ کسی عاشق کا زیر زمیں تڑپنا بتائی ہے   سب کہاں ؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں غالب نے اس شعر  گل و لالہ کا نمایاں ہونے کی وجہ زیر زمیں پنہاں ہونے والے خوبصورت چہروں کو بیان کیا ہے  امید ہے آپ حسن تعلیل سے آگاہ ہو چکے ہیں مزید مثالوں اور مشق کے لیے یہاں دبائیں

کہانی از ڈاکٹر سعادت سعید

 کہانی پر کیف رات اپنے تبسم میں غم لیے  پسماندگان زیست پر نوحہ کناں رہی  میں حزن بے کراں تھا یا سیل غم حیات  ہر پل مری نگاہ میں اک روشنی رہی!  وہ روشنی کہ جس سے مرااسم زندہ تھا  وہ روشنی بسر کے کسی سے مری رہی! عہد وفا سے ناتہ مراٹوٹ بھی چکا لیکن وہ رفتگی ہے کہ یوں سوچتا ہوں میں  میری کہانی اس کو اگر یاد بھی نہ ہو میری پرستشوں کی نہیں انتہا کوئی  اس کے سلگتے سانس مری دھڑکنوں میں ہیں ! جب رات بھیگنے لگی میں سوگوار تھا!   تب چاندنی نے جھوم کے مجھ سے کہا چلو!  ان بستیوں میں چلتی ہواؤں کے درمیان  جن کا ہر ایک کو چہ لب بام حشر ہے  جن کے ہر ایک خیمے یہ لکھا ہے میرا نام !  نا آشنا ہوائیں ہیں برق نگاہ حسن  ان کی عنائتوں سے ہرے پیڑ جل گئے  ندی کا بہتا پانی بھی  شعلہ نفس ہوا! جی جگمگا اٹھا تھا، جگر جھلملا اٹھا  میرے گماں میں کوند گئی برق شبنمی اس کا جمال اپنی بقا کا بھرم لیے ہر پل مرے خیال سے بچتا رہا کہ میں ارض بہار عشق کا مالک تھا، پراسے محکوم ہو کے مجھ سے محبت نہ ہوسکی ! میرے لہو سے کرب کی چنگاریاں اٹھیں ...