| لطائف اقبال |
مغرب کے اہل سیاست اقبال کی نظر میں
کیمرج کے زمانہ میں چند ہم عصروں
سے مذہب پر بحث چھڑ گئی۔ایک صاحب پوچھنے لگے مسٹر اقبال یہ کیا بات ہے کہ جتنے
پیغمبر اور بانیان مذہب دنیا میں آئے وہ بلا استثنا ایشیا میں مبعوث ہوئے۔یورپ میں ایک
بھی نبی مبعوث نہیں ہوا؟
ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا۔بھئی شروع
شروع میں اللہ میاں اور شیطان نے اپنا اپنا پیترا جما لیا۔اللہ میاں نے ایشیا کو
پسند کیا اور شیطان نے یورپ کو۔۔۔اس لیے پیغمبر جو اللہ میاں کی طرف سے آئے ہیں
ایشیا میں مبعوث ہوئے ۔وہ صاحب بول اٹھے تو پھر شیطان کے پیغمبر کیا ہوئے ۔انھوں
نے جواب دیا:''یہ تمھارے میکائیولی اور مشہور اہل سیاست اس کے رسول ہیں ۔''
[اس پر خوب قہقہہ پڑا ]
دنیا میں جنت
دوسری گول میز کانفرنس کے زمانے میں انگلینڈ کی مشہور سیاح
خاتون مس روزیتا فوریس نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات
کا شوق ظاہر کیا۔چناں چہ مس صاحبہ نے انھیں اپنے ہاں مدعو کیا۔یہ خاتون
شمالی افریقہ اور اسلامی ممالک میں بہت
زیادہ پھری تھیں اور ان پراس سیاحت کا بہت اچھا اثر پڑا تھا۔ڈاکٹر صاحب کے خیال
میں ان کا محل جو لندن میں تھا وہ ایشیائی بلکہ اسلامی طرز آرائش کا نہایت لطیف
اور شستہ نمونہ تھا۔سامان آرائش ،غالیچے ۔زیب وزینت کے اندازہر لحاظ سے معلوم
ہوتاتھا کہ ہارون الرشید کے کسی محل کا خاکہ ہے۔اس محل میں ڈاکٹر صاحب کی ضیافت
ہوئی اور پر لطف مجلس رہی لیکن انھیں خاتون کے محل کی تعریف کا موقع نہ ملا۔روانگی
کے وقت خاتون سے رہا نہ گیا۔پوچھنے لگیں :''سر محمدمیرے اس مکان کے متعلق آپ کا
کیا خیال ہے ''۔ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا :
''آپ نے اپنی بہشت دنیا میں پائی ہے میں اپنی بہشت کا منتظر ہوں "۔۔۔۔
حسن کا اثر
ڈاکٹر صاحب پر حسن کا گہرا اور فوری اثر ہوتا تھا۔روم کے
چند روزہ قیام کے زمانے میں ان کی ایک دوست خاتون
جو اٹلی کے طبقہ امرا میں سے تھی ان سے دریافت کیا کہ آپ کو اگر یہاں کی کوئی خاص چیز دیکھنی ہے تو بتائیے تا کہ اس کاانتظام کیا جائے ۔۔۔فرمایا کہ اطالیہ کا
حسن مشہور ہے میں اس شہر روما کی حسین ترین
خواتین دیکھنا چاہتا ہوں ۔چناں چہ موصوفہ نے ایک ٹی پارٹی میں اعلا
سوسائیٹی کی چند حسین خواتین مدعو کیں۔جن
سےڈاکٹر صاحب نے ملاقات کی فرماتے تھے کہ
اطالیہ کا حسن یورپ میں بہترین ہے اورا س ضیافت میں روما کے حسن کے بعض نہایت لطیف نمونے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
Good brother
ReplyDeleteNice
ReplyDelete